ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / واٹس ایپ کے ذریعہ جاسوسی شرمناک عمل: سونیا گاندھی

واٹس ایپ کے ذریعہ جاسوسی شرمناک عمل: سونیا گاندھی

Sun, 03 Nov 2019 10:47:47    S.O. News Service

نئی دہلی،3؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسیز) واٹس ایپ جاسوسی معاملہ نے مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو بیک فٹ پر کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن کے حملہ سے مودی حکومت پریشان ہے۔ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے دہلی میں منعقد پارٹی رہنماؤں کی میٹنگ میں مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جاسوسی نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شرمناک بھی ہے۔ مودی کے اس عمل نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ اس میٹنگ میں نریندرا مودی سرکار کے خلاف کانگریس کے مظاہرہ پر بات چیت کی گئی۔ دوسری جانب پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ٹویٹ کرکے کہاکہ بے ایمان بی جے پی حکومت نے جاسوسی معاملے پر واجب سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے سوال کیاکہ حکومت ہند میں کس نے اسپائیویئر کی خریداری کی؟۔ وزیر اعظم یا قومی سلامتی کے مشیر میں سے کس نے اس کی خریداری کی اجازت دی؟۔ سرجیوالا نے یہ بھی پوچھاکہ اگر فیس بک نے مئی، 2019 میں حکومت کو مطلع کیا تو حکومت خاموش کیوں رہی؟ ذمہ دار لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟۔غور طلب ہے کہ فیس بک کی ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے سپائیویئرپیگاسس کے ذریعے کچھ نامعلوم یونٹس کی عالمی سطح پر جاسوسی کی گئی۔ہندوستانی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی اس جاسوسی کا شکار بنے ہیں۔وہیں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم)نے ہندوستان کے 40صحافیوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے واٹس ایپ کو اسرائیلی جاسوس ادارے کی جانب سے ہیک کیے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی‘پرائیویسی’اور آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سی پی آئی ایم کی پولٹ بیورو نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی پیگاسس اسپائی ویئر کمپنی نے پوری دنیا میں تقریباً 1400 سو سے زیادہ افراد کے فون اور واٹس ایپ پیغامات کو ہیک کیا ہے جبکہ واٹس ایپ پیغامات پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔بغیر سرکاری اجازت کے کسی بھی شخص کے فون وغیرہ کو ہیک کرنے، اس کے بنیادی حقوق اور ’پرائیویسی‘(ذاتیات) کی خلاف ورزی ہے۔یہ بات سپریم کورٹ بھی کہہ چکا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ادارے نے کہا ہے کہ واٹس ایپ کی معلومات اس نے ہیک نہیں کی ہیں بلکہ وہ محض ایسا سافٹ ویئر فروخت کرتی ہے جس سے ڈاٹا ہیک کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے شک کی سوئی حکومت کی جانب جاتی ہے کہ اس نے اس سافٹ ویئر سے وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ڈاٹا ہیک کیے ہیں۔پارٹی کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کی جائے کیونکہ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس نے یہ سافٹ ویئر نہیں خریدا ہے اور نہ ہی ’را‘ جیسی کسی ایجنسی نے خریدا ہے۔اگر حکومت نے نہیں خریدا ہے تو اس نے ڈاٹا لیک ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر کیوں نہیں کروائی گئی؟ پارٹی نے سائبر(ڈاٹا)سکیورٹی کے لیے سخت قوانین بنانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ پیغامات ہیک نہ کئے جا سکیں۔


Share: